حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجتالاسلام والمسلمین علیاننژاد، حضرت آیتاللہ مکارم شیرازی کے نمائندے، نے پروگرام «زمزمِ احکام» میں جان بوجھ کر اسقاطِ حمل اور اس کی دیت سے متعلق ایک استفتاء کے جواب میں معظملہ کے فتوے کی وضاحت کی، جو قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔
سوال: "بدقسمتی سے میں نے جان بوجھ کر اسقاطِ حمل کروایا ہے۔ اس عمل پر میرے شوہر بھی راضی تھے، لیکن اب مجھے شدید پشیمانی ہے۔ اس صورت میں میری شرعی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟ کیا شوہر کی رضامندی کافی ہے یا مجھے دیت بھی ادا کرنی ہوگی؟ اور اگر دیت واجب ہے تو وہ کس کو دی جائے؟"
جواب: حجتالاسلام والمسلمین علیاننژاد اس سلسلے میں حضرت آیتاللہ مکارم شیرازی کا فتویٰ یوں بیان کرتے ہیں:
"اس عظیم گناہ سے سچی توبہ کرنے اور آئندہ نیک اعمال کے ذریعے اس کی تلافی کے علاوہ، اسقاط شدہ جنین کی دیت اس کے شرعی ورثاء کو ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ سوال میں بیان کردہ صورت کے مطابق، جنین کے ورثاء میں دادا، دادی، نانا، نانی، نیز جنین کے بھائی اور بہنیں شامل ہوں گے۔ چونکہ جنین کا باپ (یعنی شوہر) اس اسقاط پر راضی تھا، اس لیے وہ دیت لینے کا حق دار نہیں ہوگا۔
دادا کو بھائی کے حکم میں اور دادی کو بہن کے حکم میں شمار کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر، اگر اسقاط کے وقت جنین کے چاروں دادا دادی (پدری و مادری) اور دو بھائی و دو بہنیں موجود ہوں، تو دیت کو بارہ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا: ہر بہن اور ہر دادی کو ایک حصہ، جبکہ ہر بھائی اور ہر دادا کو دو حصے دیے جائیں گے۔
جنین کی دیت کا مقدار اس کے اسقاط کے وقت عمر پر منحصر ہے:
پہلے بیس دن میں: پندرہ مثقال عام سونا
دوسرے بیس دن میں: بیس مثقال عام سونا
تیسرے بیس دن میں: پینتالیس مثقال عام سونا
چوتھے بیس دن میں: ساٹھ مثقال عام سونا
پانچویں بیس دن میں، جب تک رحم میں حرکت شروع نہ ہو: پچہتر مثقال عام سونا
روح پھونکے جانے کے بعد:
اگر جنین لڑکا ہو تو مکمل دیت
اور اگر لڑکی ہو تو نصف دیت واجب ہوگی۔"









آپ کا تبصرہ